سرکاری اداروں میں ایک ہزار ارب کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف

13 گھنٹے قبل
سرکاری اداروں میں ایک ہزار ارب کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) سرکاری اداروں کی جانب سے قواعد کے برعکس تقریباً ایک ہزار ارب روپے کمرشل بینکوں میں رکھنے اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے افسران کو کروڑوں روپے کے اضافی فوائد دینے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ مقامی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں نے ایک ہزار ارب روپے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں منتقل کرنے کے بجائے کمرشل بینکوں میں رکھے ہوئے ہیں، جو بظاہر پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ 2019 کی خلاف ورزی ہے۔اسی طرح سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے وزارت خزانہ کی منظوری کے بغیر اُس وقت کے چیئرمین، کمشنرز، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، ڈائریکٹرز اور دیگر افسران کو تنخواہوں، مراعات اور اضافی فوائد کی مد میں ایک ارب انیس کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کیں۔رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات مبینہ طور پر پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ 2019 کی خلاف ورزی ہیں اور یہ تمام مراعات گزشتہ سولہ ماہ کے دوران یکم جولائی 2023 سے 31 اکتوبر 2024 تک سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے بورڈ کی منظوری سے دی گئیں۔ترجمان کے مطابق سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کا پالیسی بورڈ ایسی منظوری دینے کا مجاز ہے۔