لاہور( سپورٹس ڈیسک)پاکستان کرکٹ ٹیم کے معروف بلے باز بابر اعظم کی حالیہ کارکردگی نے ایک بار پھر شائقین کو خوشی کی لہر دے دی ہے، جب کہ ماضی کے وہ لمحات بھی زیر بحث ہیں جب ان کی خراب فارم نے انہیں شدید دباؤ کا شکار کر دیا تھا۔ذرائع کے مطابق ورلڈ کپ کے ایک مرحلے میں جب کیمرہ پاکستانی ڈگ آؤٹ کی جانب گیا تو بابر اعظم مایوسی کے عالم میں سر جھکائے بیٹھے دکھائی دیے تھے۔ اس وقت ان کی مسلسل ناکامیوں نے شائقین اور مبصرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ تاہم چند ماہ بعد ہی صورتحال بدلتی دکھائی دی اور ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آنے لگی۔تجزیہ کاروں کے مطابق جب کوئی کھلاڑی مستقل شاندار کارکردگی دکھائے تو اس کا معیار بہت بلند ہو جاتا ہے، جس کے باعث معمولی کارکردگی بھی ناکافی محسوس ہوتی ہے۔ بابر اعظم کے ساتھ بھی یہی صورتحال رہی، جہاں ایک طویل عرصے تک وہ اپنی فارم برقرار نہ رکھ سکے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اس دوران ان کی ایک بڑی کمزوری ڈومیسٹک کرکٹ سے دوری رہی، جس کی وجہ سے وہ اپنی تکنیک اور فارم کو فوری طور پر بہتر نہ بنا سکے۔ بعد ازاں جب انہوں نے مقامی سطح کی کرکٹ میں حصہ لیا تو ان کی کارکردگی میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی، خاص طور پر پاکستان سپر لیگ میں ان کی فارم نے انہیں دوبارہ اعتماد دیا۔ماہرین کے مطابق کھیل میں اعتماد کی کمی کسی بھی کھلاڑی کی کارکردگی پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ بابر اعظم کے حوالے سے بھی یہی بات سامنے آئی کہ وہ طویل عرصے تک خود اعتمادی کے بحران کا شکار رہے۔اس دوران یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کے گرد موجود بعض افراد نے ان کے کیریئر پر مثبت کے بجائے منفی اثرات ڈالے، جس سے ان کے فیصلوں پر بھی اثر پڑا۔ اب ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے کیریئر کو زیادہ محتاط انداز میں آگے بڑھائیں گے اور غیر ضروری موازنے سے گریز کریں گے، خصوصاً بھارت کے بلے باز ویرات کوہلی سے تقابل جیسی بحثوں سے دور رہیں گے۔ماہرین کرکٹ کا کہنا ہے کہ اگر بابر اعظم اپنی موجودہ فارم کو برقرار رکھتے ہیں تو آئندہ عالمی مقابلوں میں پاکستان کے لیے ان کی خدمات انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔ شائقین کو امید ہے کہ وہ ایک بار پھر اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ ٹیم کو کامیابیوں سے ہمکنار کریں گے۔
بابر اعظم کی فارم میں شاندار واپسی، مایوسی کے دنوں کے بعد نئی امید کی کرن
2 گھنٹے قبل