دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں، ایرانی قیادت کا دو ٹوک مو قف

9 گھنٹے قبل
دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں، ایرانی قیادت کا دو ٹوک مو قف

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے متضاد پیغامات مل رہے ہیں اور بامعنی مذاکرات کی بنیاد معاہدوں کی پاسداری پر ہوتی ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان عدم اعتماد کی بڑی وجہ تاریخی تلخیاں ہیں۔ ان کے مطابق امریکا ایران سے سرنڈر چاہتا ہے، تاہم ایرانی قوم دباؤ اور طاقت کے سامنے جھکنے والی نہیں۔اس سے قبل ایک داخلی اجلاس میں مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ جاری کشیدگی کا خاتمہ جلد از جلد ہونا چاہیے تاکہ ملک کی توجہ تعمیر نو اور معاشی استحکام پر مرکوز کی جا سکے۔انہوں نے زور دیا کہ کشیدگی کا حل صرف سفارت کاری میں ہے، جبکہ عوام کو درست معلومات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے کیونکہ غلط یا غیر حقیقی دعوے مسائل حل کرنے میں مددگار نہیں ہوتے۔ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی اسی مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کیے جا سکتے۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکراتی عمل کو دباؤ اور سرنڈر کے پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو قابل قبول نہیں۔