لاہور( کامرس ڈیسک)ملک میں بڑھتے ہوئے توانائی بحران، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے، برآمدات میں کمی اور صنعتوں کی بندش کے باعث کاروباری طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔فیڈریشن ہاؤس میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کاروباری رہنماؤں نے صورتحال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ اجلاس میں صدر اکرام راجپوت، ایس ایم تنویر اور دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔نائب صدر آصف سخی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت کے ان اقدامات کو سراہتے ہیں جن کے ذریعے خطے میں امن کے لیے کردار ادا کیا گیا، تاہم انہوں نے انڈسٹری کو درپیش مائع قدرتی گیس کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔نائب صدر امان پراچہ نے کہا کہ ایک طرف اضافی بجلی کی بات کی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں توانائی کے نرخوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مقامی صنعتوں کی عالمی منڈی میں مسابقت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ریٹیل چین ایسوسی ایشن کے صدر اسفندیار نے تجویز دی کہ دکانوں کے اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھائے جائیں تاکہ کاروبار میں بہتری آئے، جیسا کہ ترکی اور سعودی عرب جیسے ممالک میں بھی رات دیر تک مارکیٹس کھلی رہتی ہیں۔ریحان جاوید نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں صنعتی بجلی کی طلب اور دستیاب پیداواری صلاحیت کے باوجود صنعتیں بہت کم بجلی استعمال کر رہی ہیں، جو صنعتی زوال کی نشاندہی کرتی ہے۔اسی طرح زبیر طفیل نے بھی دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے مسائل کے حل اور مقامی وسائل کے بہتر استعمال کے بغیر صنعتی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے بلوچستان میں موجود گیس ذخائر کو بروئے کار لانے پر بھی زور دیا۔کاروباری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں فوری اصلاحات کی جائیں تاکہ صنعتی سرگرمیوں کو بحال کر کے معیشت کو استحکام دیا جا سکے۔
مہنگی توانائی اور صنعتوں کی بندش پر کاروباری طبقہ شدید تشویش کا شکار
2 گھنٹے قبل