ممبئی( سپورٹس ڈیسک)بین الاقوامی کرکٹ میں بھارتی سیاست اور حکومتی مداخلت پر معروف عالمی جریدے وزڈن کرکٹرز المانک نے سخت ردعمل دیتے ہوئے موجودہ صورتحال کو آرویلین قرار دیا ہے۔برطانیہ سے 1864 سے شائع ہونے والے اس جریدے نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا ایک ذیلی ادارہ بن چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق جریدے کے ایڈیٹر لارنس بوتھ نے بین الاقوامی کرکٹ میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو غیر صحت مند اور سیاست زدہ قرار دیا ہے، جبکہ وزڈن کا 163واں ایڈیشن جلد شائع کیا جا رہا ہے جس میں ان نکات کو نمایاں کیا گیا ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو سنجوگ گپتا اور چیئرمین جے شاہ دونوں بھارتی ہیں، جبکہ جے شاہ بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیٹے اور نریندر مودی کے قریبی اتحادی بھی ہیں۔جریدے نے نشاندہی کی کہ ایشیا کپ 2025 کے دوران بھی سیاسی اثرات دیکھنے میں آئے، جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے باعث کھلاڑیوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے گریز کیا۔رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کرکٹ کے عالمی نظام میں اس نوعیت کی سیاسی مداخلت کھیل کے غیر جانبدارانہ تشخص کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
بھارتی کرکٹ پر سیاست کا سایہ، عالمی جریدے کا سخت ردعمل سامنے آ گیا
3 گھنٹے قبل