واشنگٹن، اسلام آباد( اباسین خبر) امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کل اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی آج پاکستان روانگی متوقع ہے، جبکہ ایرانی مذاکراتی وفد کے بھی آج اسلام آباد پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے تین امریکی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جے ڈی وینس کے آج صبح پاکستان کے لیے روانہ ہونے کا امکان ہے، جہاں ایک ایسے معاہدے پر بات چیت متوقع ہے جو ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی معاہدہ ہونے تک برقرار رہے گی اور کسی دباؤ میں آ کر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق معاہدہ صرف اسی وقت ہوگا جب بہترین شرائط حاصل ہوں گی۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدہ سابقہ انتظامیہ کے معاہدوں سے بہتر ہوگا اور یہ دنیا بھر میں امن و سلامتی کی ضمانت دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔وائٹ ہاؤس کے مطابق اگر کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو وہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ اور امریکہ سمیت عالمی سطح پر امن کی ضمانت دے گا۔دوسری جانب ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کیے جا سکتے اور امریکہ مذاکرات کو دباؤ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق فی الحال مذاکراتی وفد کے پاکستان جانے کا کوئی ارادہ نہیں، جبکہ ایرانی حکام نے امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ادھر پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے میں امن کے لیے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
امریکہ ایران مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں متوقع، عالمی سفارتی سرگرمیاں تیز
9 گھنٹے قبل