پشاور( اباسین خبر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ عید کے بعد ملک میں بڑی احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، کیونکہ موجودہ عدالتی نظام عوام کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔پشاور میں کارکنان کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف سیاسی جماعتوں کی تبدیلی سے ملک کے حالات بہتر نہیں ہوں گے بلکہ پورے نظام کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی ڈھانچے میں عوامی خدمت کے بجائے مفادات اور سیٹوں کی سیاست غالب ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض جماعتوں میں صرف مالی طاقت رکھنے والوں کو اہمیت دی جاتی ہے، اس لیے جو لوگ محض اقتدار کے لیے سیاست کرنا چاہتے ہیں وہ مخصوص بڑی جماعتوں کا حصہ بنیں، جبکہ نظام میں حقیقی تبدیلی کے خواہشمند افراد کو جماعت اسلامی کا ساتھ دینا چاہیے۔حافظ نعیم الرحمن نے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی کو غیر معمولی اختیارات دینے کے بجائے اختیارات عوامی نمائندوں کو منتقل کیے جائیں تاکہ شفافیت قائم ہو سکے۔انہوں نے ملک میں تعلیمی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جس سے مستقبل کی صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔خطاب میں انہوں نے خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کبھی بھی حقیقی معنوں میں مسلم دنیا کا دوست نہیں رہا، اس لیے پاکستان کو باوقار اور خودمختار خارجہ پالیسی اپنانی چاہیے۔ انہوں نے ماضی کی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی مفادات کی حمایت سے پاکستان کو فائدہ نہیں پہنچا۔ان کے مطابق پاکستان نے خطے میں امن کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کا اعتراف ہونا چاہیے، تاہم خارجہ تعلقات میں خودداری اور قومی مفاد کو مقدم رکھنا ضروری ہے۔